This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

Monday, 19 March 2018

Eye Infection Treatment

Eye Infection Treatment 


آنکھوں کے گرد حلقے ہو یا پیلاہٹ درحقیقت یہ سب کئی امراض کی علامات ہوسکتے ہیں۔
تو آنکھوں کے بارے میں چند ایسے ہی راز جانے جو بظاہر تو بے ضرر لگتے ہیں مگر وہ اندر چھپی بیماریوں کو افشاءکررہے ہوتے ہیں۔
گہرے حلقے
آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے اکثر افراد کے پڑ جاتے ہیں جس کی وجہ عام طور پر نیند کی کمی ہوتی ہے۔ یعنی رات گئے تک جاگنا اور جلد اٹھ جانا آنکھوں کے گرد حلقوں کا باعث بن جاتا ہے، تاہم اگر یہ حلقے مناسب نیند لینے کے باوجود ختم نہ ہو تو طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دیگر طبی مسائل کا اشارہ ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تھائی رائیڈ (بے نالی غدود) یا خون کی کمی جیسے امراض کی علامت بھی ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر آپ مناسب نیند لیتے ہیں مگر پھر بھی خود کو تھکاوٹ کا شکار محسوس کرتے ہیں یہ تھائی رائیڈ یا خون کی کمی کی علامت ہوسکتی ہے، ایسے حالات میں اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرکے ان دونوں کیفیات کا ٹیسٹ ضرور کروائیں۔
آنکھوں میں پیلاہٹ
اگر آپ کی آنکھوں کا سفید حصہ زرد یا پیلاہٹ زدہ نظر آنے لگے تو یہ جان لیوا جگر کے امراض کی ممکنہ علام ہوسکتی ہے جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ طبی ماہرین کے مطابق آنکھوں کی یہ رنگ ہیپاٹائٹس، جگر کے صحیح سے کام نہ کرنے یا دیگر امراض کے باعث بھی ہوسکتی ہیں۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر سے فوری رجوع کرنا چاہئے کیونکہ ضروری نہیں کہ جگر کے امراض نے آپ کو شکار کیا ہو تاہم ایسا ہوا بھی ہے تو ابتدائی سطح پر ہی ان پر زیادہ موثر طریقے سے قابو پایا جاسکتا ہے۔
آنکھوں میں سرخی
اگر آپ کی آنکھیں بہت سرخ یا ان میں سرخ لکیریں سے بن گئی ہو تو پہلی فرصت میں ڈاکٹر کے پاس پہنچ جائیں کیونکہ یہ سنگین امراض جیسے آشوب چشم، پپوٹوں کی سوزش، آنکھ کے پردے کے ورم اور کسی قسم کے موتیا کی جانب اشارہ بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کچھ کم سنگین وجوہات بھی ہوتی ہیں جیسے آٹھ گھنٹے تک کمپیوٹرز پر کام کرنے سے آنکھوں میں درد کے باعث سرخ لکیریں بن سکتی ہیں اور اس صورت میں آنکھوں کا معائنہ کروانا بہتر رہتا ہے کیونکہ یہ بنیائی کی کمزوری کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے، اسی طرح یہ کسی قسم کی الرجی کے باعث بھی ہوسکتا ہے۔
خشک آنکھیں
اکثر افراد کو اس قسم کی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے جس کے دوران لگتا ہے جیسے آنکھیں بالکل خشک ہوگئی ہیں، جس کی وجہ اکثر وٹامن اے کی کمی ہوتی ہے، تاہم یہ شکایت عمر بڑھنے اور کچھ خاص ادویات کے استعمال کے باعث بھی لاحق ہوسکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی بیماری کا باعث بھی ہوسکتا ہے جو خاص طور پر ایسے گلینڈز کو متاثر کرتا ہے جو آنسوں اور لعاب دہن کو بنانے کا کام کرتے ہیں۔عام طور پر اس کے دوران ایسا لگتا ہے کہ جیسے آنکھ میں کوئی کنکر چلا گیا ہو اور چبھن محسوس ہوتی رہتی ہے۔ وٹامن اے کے ساتھ ساتھ غذا میں صحت بخش چربی کی کمی بھی اس کا باعث بن سکتی ہے۔
سوجی ہوئی آنکھیں
گہرے حلقوں کی طرح آنکھوں کا سوج جانا بھی چہرے کی کشش کو ماند کردیتا ہے، اس کے لیے اکثر برف کی ٹکور، کھیرے کا ٹکڑا یا دیگر ٹوٹکوں کا استعمال کیا جاتا ہے مگر جب یہ کسی صورت ختم نہ ہو تو زیادہ سنگین طبی مسائل کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ گردوں میں کسی قسم کی خرابی کی جانب اشارہ ہوسکتا ہے جس کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہتر رہتا ہے جبکہ نمک کے بہت زیادہ استعمال سے بھی یہ تکلیف آپ کو اپنا شکار کرسکتی ہے۔


Blood Sugar Ka Asan ilaj

Blood Sugar Ka Asan ilaj:-


 اگر آپ ذیابیطس کے شکار ہیں اور اپنے بلڈ شوگر لیول کو روزمرہ کی بنیاد پر چیک کرتے ہیں یا اسے صحت مند سطح پر رکھنے کے لیے فکر مند رہتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ ان غیر متوقع عناصر سے آگاہ ہو جو آپ کے معمول کے بلڈ شوگر لیول کو بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
ناشتہ نہ کرنا
موٹاپے کے شکار افراد جو ناشتہ نہیں کرتے ان میں دوپہر کے کھانے کے بعد انسولین اور بلڈ شوگر کی سطح بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ناشتہ نہ کرنے والے اکثر افراد میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ 21 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صبح کی پہلی غذا خاص طور پر پروٹین اور صحت مند چربی سے بھرپور خوراک بلڈ شوگر کی سطح کو پورے دن مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
مصنوعی مٹھاس
اگر تو آپ ذیابیطس کے شکار ہونے کے بعد عام چینی کو چھوڑ کر مصنوعی مٹھاس کو ترجیح دیتے ہیں تو ایک اسرائیلی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس بلڈ شوگر کی سطح کو بہت زیادہ بڑھا سکتی ہے۔ درحقیقت اس قسم کی مٹھاس معدے میں پائے جانے والے بیکٹریا کو بھی چکرا دیتی ہے جس کے نتیجے میں وہ گلوکوز کو جسم میں پراسیس کرنے کا کام نہیں کرتے۔ محققین کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کے ڈر سے جو لوگ عام کولڈ ڈرنکس چھوڑ کر ڈائٹ مشروات کو ترجیح دیتے ہیں انہیں اس سے بھی گریز کرنا چاہئے۔
بہت زیادہ چربی والی غذا
ذیابیطس کے شکار افراد کو اپنی غذا میں چربی کے استعمال سے کافی حد تک گریز کرنا چاہئے۔ جنرل آف نیوٹریشن میں 2011 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق چربی سے بھرپور غذا کے استعمال کے نتیجے میں بلڈ شوگر کی سطح میں 32 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق چربی سے بھرپور اشیاءجسم میں دوڑنے والے خون پر اثرانداز ہوتی ہیں جس سے اس کی خون سے شوگر صاف کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
کافی کا استعمال
حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق کافی کا استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ ٹالتا ہے تاہم جو لوگ پہلے اس مرض کا شکار ہوچکے ہوں ان کے لیے کیفین نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف ذیابیطس کے مطابق ایسا نہیں کہ کافی کا استعمال نہ کرٰں مگر اس کے استعمال میں کافی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ دودھ اور چینی کے بغیر سیاہ کافی کا استعمال بلڈ شوگر کا لیول بڑھا سکتا ہے۔
انفیکشن
اب یہ فلو ہو یا کسی اور قسم کا انفیکشن، ایسے حالات میں جسم کا دفاعی نظام ایک خصوصی جراثیم سے لڑنے والا کیمیکل خارج کرتا ہے جو آپ کے بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول سے باہر بھی کرسکتا ہے۔ درحقیقت بیماری تنا کی ایسی قسم ہے جو جسمانی دفاع کو بڑھا دیتا ہے مگر اس کا ایک اثر یہ ہوتا ہے کہ جسمانی توانائی بڑھانے کے لیے جسم زیادہ گلوکوز بنانے لگتا ہے جس کے نتیجے میں انسولین کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہونے لگتی ہے۔ یعنی جسمانی بلڈ شوگر کی سطح میں بیماری کی صورت میں ڈرامائی اضافہ ہوتا ہے لہذا ایسے حالات میں ذیابیطس کے شکار افراد کو کھانے اور پینے کی خصوصی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
نیند سے دوری
ایک رات کا اچھا آرام ایک بہترین دوا ثابت ہوتا ہے خاص طور پر اگر آپ ذیابیطس کے شکار ہوں۔ تاہم ایک ڈچ تحقیق کے مطابق ذیابیطس ٹائپ ون جو لوگ رات بھر میں محض چار گھنٹوں کی نیند ہی لے پاتے ہیں ان میں انسولین کی حساسیت 20 فیصد تک کم ہوجاتی ہے۔ آسان الفاظ میں ناکافی نیند کے نتیجے میں جسمانی تنا بڑھ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔
تمباکو نوشی
یقیناً تمباکو نوشی کی عادت کسی کے لیے بھی صحت بخش نہیں مگر سیگریٹس خاص طور پر ان افراد کے لیے خطرناک 

ہے جو ذیابیطس کے شکار ہو۔ کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جتنا زیادہ نکوٹین انسانی خون میں شامل

 ہوتا ہے اتنا ہی بلڈ شوگر بڑھ جاتا ہے اور اس سطح میں بہت زیادہ اضافہ ذیابیطس کی سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن 

سکتا ہے جیسے دل کے دورے، فالج اور گردوں کے فیل ہونا وغیرہ۔

Zuban Ki Luknat ka desi ilaj

Zuban Ki Luknat ka desi ilaj:-


زبان کی لکنت کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ گھر ،اسکو ل یا دفتر میں ملنے والا ذہنی دباؤ ،جینز میں پایا
جانے والا کوئی نقص یا کوئی جسمانی عضراس کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں۔ بات کرنے کی اس تکلیف کا سب سے زیادہ شکار بچے ہوتے ہیں ۔ دو سے پانچ سال کی عمر میں اکثر بچے ہکلانے لگتے ہیں جب ان کی بولنے کی صلاحیت بڑھ رہی ہوتی ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ فیصد بچے اس عمر میں ہکلانے لگتے ہیں ۔ یہ ہکلاناعموماً وقتی ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ ٹھیک بھی ہو جاتا ہے ۔
انسانی آواز کئی مربوط پٹھوں کی حرکت سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس عمل میں سانس لینے، پٹھوں ، ہونٹوں اور زبان کے حرکت کرنے کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ نرخرے اور اس کے اردگرد موجود پٹھوں کی حرکت کا تعلق ذہن سے ہوتا ہے ۔دماغ بولنے کے ساتھ ساتھ سننے اور چھونے کی صلاحیتوں کو بھی مانیٹر کرتا ہے ۔ زبان کی لکنت کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ ایک قسم کی لکنت و ہ ہوتی ہے جو عام طور پر بچوں کی زبان میں اس وقت پیدا ہوجاتی ہے جب ان کے بڑھنے کی عمر ہوتی ہے یعنی دو سے پانچ سال کی عمر میں۔ دوسرے قسم کی لکنت اعصابی ہوتی ہے جس کی وجہ سر پہ لگنے والی چوٹ، دل کا دورہ یا کوئی ذہنی دباؤ ہو سکتی ہے ۔ ایسے میں دماغ اور آواز پیدا کرنے والے پٹھوں میں رابطہ تعطل یا توقف کا شکا ر ہوجاتا ہے ۔
فی الوقت زبان کی لکنت سے بچنے کا طریقہ تو دریافت نہیں ہو پا یا ہے البتہ اس کے علاج کے لیے مختلف اقسام کے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ علاج کی نوعیت انسان کی عمر ، تبادلہ خیال کرنے کے مقاصد اور دیگر عوامل پر منحصر ہوتی ہے ۔ چھوٹے بچوں کو عام طور پر اسپیچ تھیراپی دی جاتی ہے ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ابتدائی عمر میں ہی اگر بچوں کی اس تکلیف کا علاج کرلیا جائے تو انھیں آگے چل کر اس کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ہکلاہٹ کو دور کرنے کے لیے بچوں کے ماں باپ کو بچوں کو گھر میں ایک مثبت ماحول مہیا کرنے اور انہیں اپنی رائے کا اظہار کرنے کی اجازت دینے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ جبکہ بچوں کو ہر وقت ٹوکنے سے منع کیا جاتا ہے۔ ایسے بچوں سے دھیمے لہجے میں دھیرے دھیرے بات کرنی چاہیے تاکہ ان پرزیادہ دباؤ نہ پڑے۔ ساتھ ہی کھل کر اور ایمانداری سے ایسے بچوں کی بات سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
اسپیچ تھیراپی میں بچوں کو رک رک کے بات کرنے ، گفتگو کے دوران زیادہ سے زیادہ سانس لینے اور چھوٹے چھوٹے جملے بولنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ بچوں سے ان کی زندگی اور ذہنی تناؤ کے بارے میں بھی بات چیت کی جاتی ہے ۔ معالج بڑوں کو بھی عام طور پر اسپیچ تھیراپی لینے کا ہی مشورہ دیتے ہیں ۔ زبان کی لکنت کے لیے ادویات کا استعمال درست نہیں تصور کیا جاتا ، البتہ ڈپریشن یا اسٹریس دور کرنے کے لیے ادویات دی جاسکتی ہیں ۔
زبان کی لکنت دور کرنے کے لیے چند گھریلو توٹکے بھی اپنائے جاسکتے ہیں ۔ جن میں سے چند مندرجہ ذ یل ہیں:
*ایسے افرادکو صبح سویرے شہد اور کلونجی کا سفوف زمزم کے پانی کے ساتھ دینے کا مشور دیا جاتا ہے۔
*عاقر قرحا لاکر ایک قسم کی جڑی بوٹی ہے جو کسی بھی پنساری کی دکان پر مل جاتی ہے۔ اسے پیس کر اس کا چار گرام پسی ہوئی سیاہ مرچ کے ساتھ ملا لیں۔ اس سفوف کے دو بڑے کھانے کے چمچے شہد میں ملا کر رکھ لیں اور دن میں دو تین بار زبان کے نیچے اور اوپر انگلی پر لگا کر مل لیں ۔
*دو کھانے کے چمچ سہاگہ لیں ۔ اس کے پتھر کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ٹوڑ کر توے پر رکھ کر پکائیں ۔ سہاگہ پگھل جائے تو چولھا بند کردیں اور توے پر ہی کچھ دیر چھوڑ دیں ۔ تھوڑی دیر بعد یہ پھولنا شروع ہوجائے گا ۔ اچھی طرح پھولنے کے بعد اسے پیس لیں اور اسٹور کرلیں ۔ روزآنہ ایک چائے کے چچ شہد میں چٹکی بھر سفوف دال کر زبان پر مل لیں ۔ اس عمل کو دن میں تین بار دہرائیں۔ ایک مہینے تک اس عمل کو جاری رکھنے سے زبان کی لکنت کافی حد تک کم ہوجائے گی ۔


Saturday, 17 March 2018

How to Reduce belly fat fast with breakfast

How to Reduce belly fat fast with breakfast:-


متوازن خوراک سے مراد وہ غذا ہے جس میں مکمل نشونما کے لئے مناسب مقدار میں غذائیت موجود ہو۔چونکہ دن کی شروعات ناشتہ سے ہوتی ہے اس لئے ناشتہ دن کی بہترین غذا ہونی چاہئے۔مگر بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ ناشتہ کے بعدسستی طاری ہو جاتی ہے ۔لہذا وہ اپنے اس خیال کو درست ثابت کرنے کے لئے صبح صرف چائے کا ایک کپ پی لیتے ہیں ۔جب کہ ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی موجود ہے جو پراٹھے ،انڈے،سری ،پائے، کلچے ، نہاری کھا کر زبردستی سستی طاری کر رہا ہے۔
بہت سی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ متوازن ناشتہ سے نزلہ ،زکام اور فلو کے جراثیم سے مدافعت کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے ۔اس لئے ایسے افراد جو مناسب ناشتہ نہیں کرتے آسانی سے بیمار ہو جاتے ہیں ۔ایک صحت مند ناشتہ سے پورے دن کے امور انجام دینے کے لئے قوت ملتی ہے۔ ایک مکمل ناشتہ میں فائبر ،کاربو ہائڈریٹس ،پروٹین اور کچھ ضروری چکنائی بھی ہونی چاہئے۔
۱۔پھلوں کا ناشتہ

دن بھر کی کیلوریز میں
۲۵ فیصد حصہ فائبر ہونا چاہئے ،جو کہ پھلوں سے با آسانی مل جاتا ہے ۔
ناشتے میں کیلے کا کوئی ثانی نہیں ۔اس کو کھانے سے کا فی دیر تک بھوک نہیں لگتی ۔یہ کاربو ہائڈریٹس کا بہترین ذخیرہ ہے۔اسے کاٹ کر سیر یل کے ساتھ کھانے سے نہ صرف اس کا ذائقہ بہتر ہوتا ہے بلکہ یہ ایک صحت بخش غذا بن جاتی ہے ۔
بیریز کو سپر فوڈ بھی کہا جاتا ہے۔کیوں کہ ان میں اینٹی آ کسیڈنٹس بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں اور یہ وزن نہیں بڑھاتیں ۔ایک کپ اسٹرابیریز میں پورے دن کی ضرورت پو
ری کرنے جتنا وٹامن ،فائبر اور فولک ایسڈ ہوتا ہے۔
ناشتہ میں گریپ فروٹ کھانے سے بھی دبلے ہونے میں مدد ملتی ہے ۔کیوں کہ اس میں چربی پگھلانے والے اجزاء شامل ہوتے ہیں یہ خون میں شکر کی تعداد کو بہتر بنانے میں مددگار ہوتے ہیں ۔ پھلوں کو پیوری کی شکل میں بھی لیا جا سکتا ہے ۔فروٹ پیوری بنانے کے لئے فروٹ کو پانی کے ساتھ پکا کر نرم کر لیا جاتا ہے اور بلینڈر میں ڈال کر مکس کر لیا جاتا ہے اور أوپر سے لیموں کا رس اور دار چینی ڈال دی جاتی ہے ۔ایک أبلا ہوا انڈہ ایک براؤن بریڈ اور اس کے ساتھ فروٹ پیوری غذائیت سے بھر پور ناشتہ ہے۔
۲۔ دلیہ کا ناشتہ

سیریل یا دلیہ ناشتہ کے لئے چکنائی میں کم اور نشاستہ سے بھر پور ہوتے ہیں ۔صبح سویرے توانا ئی کا اچھا ذریعہ ہوتے ہیں ۔اچھے دلیہ کے لئے فورٹی فائڈ ود ایکسٹرا منرلز کا انتخاب کرنا چاہئے۔جس میں موجود آئرن خون صاف کرتا ہے اور وٹامن بی میٹا بو لزم کے لئے ضروری ہے۔ دلیہ کو عام طور پر دودھ کے ساتھ لیا جاتا ہے جس میں موجود کیلشیم پروٹین ہڈیوں کے لئے فائدہ مند ہوتا ہے اور اگر ساتھ میں ایک گلاس اورنج جوس لیا جائے تو وہ فولاد کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔اس کے علاوہ دلیہ میں بھی فروٹ ڈالا جا سکتا ہے۔ اس طرح اس ناشتہ سے
۵۰ گرام کاربو ہائڈریٹس اور ۸ گرام فائبر حاصل ہو گا ۔
۳۔پروٹین کا ناشتہ ( انڈہ ،گوشت دودھ)

ناشتہ کی کیلوریز کا
۱۵ سے ۲۰ فیصد حصہ پروٹین پر منحصر ہونا چاہئے۔صبح کے اوقات میں اگر پروٹین لیا جائے تو وہ پورے دن بھوک کے احساس کو بڑھنے نہیں دیتا ۔ماہرین کے مطابق ناشتہ میں ۲۰ گرام پروٹین جسم کو توانا رکھنے کے ساتھ ساتھ وزن بھی کم کرتا ہے۔
پروٹین کا بہترین ذریعہ انڈہ ہے یہ ہی وجہ ہے کہ انگریزی ناشتہ میں گرل کئے ہوئے ٹماٹر ،پانی میں پکا ہوا انڈہ ،ٹوسٹ ،اور ایک گلاس دودھ شامل ہوتا ہے
پروٹین حاصل کرنے کے لئے گرل کی ہوئی مچھلی یا گائے کا گوشت (اسٹیک وغیرہ)بھی لیا جا سکتا ہے۔

۴۔ دہی اور سیب


یوں تو دہی اور سیب ایک ساتھ کم ہی ڈشز میں استعمال ہوتے ہیں مگر دونوں غذائیت سے بھرپور ہیں۔دہی کیلشیم اور پروٹین فراہم کرتا ہے اس میں چکنائی کی مقدار بھی کم ہوتی ہے جب کہ سیب سے پیٹ بھر جاتا ہے۔کیوں کہ اس میں فائبر ہوتا ہے اس ناشتے کے ساتھ اگر ایک گلاس جوس پی لیا جائے تو یہ ارتکاز کی کمی ،چڑچڑ اہٹ اور بے چینی کو کم کرتا ہے۔

۵۔سبزیوں کا ناشتہ


گندم کی روٹی بنا کر اس میں انڈے کا خاگینہ, ابلے ہوئے پالک کے پتے, بند گوبھی، شملہ مرچ نمک ،کالی مرچ اور کو ٹیج چیز کی فلنگ کر دیں ۔ اس رول سے
۳۴۵ کیلوریز ملیں گی جس میں ۳۶ گرام کاربو ہائڈریٹس ۱۰ گرام فائبر ۱۷ گرام پروٹین حاصل شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ایک گلاس دودھ یا ایک مٹھی خشک میوہ ایک مکمل ناشتہ ہے۔

۶۔بادام او ر مونگ پھلی کا مکھن


بریڈ یا ڈبل روٹی میں موجود کاربو ہائڈریٹس توانائی کا اچھا ذریعہ ہیں ۔اگر ڈبل روٹی بنا چھنے آٹے کی بنی ہو تو اس میں موجود ریشہ دن بھر فٹ رکھنے کے لئے کافی ہیں ۔اگر بریڈ کو بادام اور مونگ پھلی کے مکھن (پینٹ بٹر)کے ساتھ کھایا جائے تو پروٹین بھی حاصل ہو گی اس کے ساتھ گرین ٹی یا کم چکنائی والے دہی کی لسی لی جا سکتی ہے۔

۷۔ملک اسموتھیز


کم چکنائی والے دودھ کے ساتھ کوئی بھی فروٹ اورآدھا کپ دہی ڈال کر بلینڈ کر لیں ۔یہ کیلشیم سے بھرپور ہے ۔ایک گلاس اسموتھی کے ساتھ ایک گرلڈ چکن کا ٹکڑا اور دو بریڈ سلائس لئے جا سکتے ہیں یا بغیر چینی کے،گندم کے آٹے سے بنے بسکٹ لئے جا سکتے ہیں ۔کوشش کریں کہ بیکری کے بنے پروڈکٹس ناشتہ میں نہ کھائیں۔





Tuesday, 27 February 2018

Sugar Treatment a Home

Sugar Treatment at Home:-
      In this video you can find Sugar Treatment at home in Urdu Hindi.